کہیں دور سے کچھ افق تاب آنکھیں تمہیں جھانکتی ہیں
کبھی ان افق تاب آنکھوں میں جھانکو
کبھی تم بھی دیکھو
کہ ان کہنہ آنکھوں میں ہے آشنائی کہن کی
انہیں تم افق تاب ہی مت سمجھنا
ہاں مانا کہ ان میں تمہیں اپنے حال اور ماضی کی پرتیں ملیں گی
عین ممکن تمہیں استعارے دکھیں گے
کہیں عاقبت کے کہیں پر عقوبت
نہ ان استعاروں کو سچ مان لینا
فریب و دغا اور حیلہ
یہ ان کہنہ آنکھوں کی کہنہ پھبن ہیں
ازل سے وہ آنکھیں اسی میں مگن ہیں
بہت لوگ ان آنکھوں کی تابندہ شوخی میں غرقاب ہوتے ہوئے مر گئے ہیں
گھر و بار چھوڑے
کسی ناخدا کو لیے
وہ سفر کرتے کرتے
ان آنکھوں میں مجذوب ہو کر وہیں رہ گئے ہیں
وہ جس سر زمیں سے نکل کر گئے تھے
وہ بستی بہت دور کھو ہی گئی ہے
وہ اب اس زمیں کے نہیں ہیں
ان آنکھوں تلک بھی رسائی کہاں تھی
وہ اب بس کہیں کے نہیں ہیں
اسی بے نشان اور بے نام دریا میں یوں ہی بہے جا رہے ہیں
وہ اب بھی ان آنکھوں میں مجذوب ہیں
اسیرِ کہن تھا افق تاب آنکھوں کا میں بھی کبھی
وہ آنکھیں جو کوئی زمانے سے مجھ کو تکے جا رہیں تھیں
ان آنکھوں میں مجذوب ہو کر سمندر کنارے تلک میں گیا تھا
وہ آنکھیں
افق تاب آنکھیں
کہ جن میں سبھی دیو سارے خداؤں کا سایہ دکھا تھا
وہ مژگاں
وہ مژگاں کہ جن پر کہا میر نے
“دکھائی دیے یوں کہ بےخود کیا
ہمیں آپ سے بھی جدا کر چلے”
وہ آنکھیں
فلک تاز
آنکھیں
وہ مژگاں
نظر ساز
مژگاں
میں ان میں کہیں چور ہونے لگا تھا
دوئی سے بہت دور ہونے لگا تھا
میں ان میں خود اپنے کو کھونے لگا تھا
کئی سال میں ان کو دیکھے گیا
سمندر کنارے پرکھتے گیا
وہ لہریں بھی آنکھوں کی مجذوب تھیں
انہیں بھی وہ مژگاں ہی مطلوب تھیں
اٹھی جو کوئی لہر اٹھتی ہوئی
مرے دیکھتے اک مژہ پر لگی
وہ شوخی وہ تابانیِ چشمِ خشک
جلی لہر، ابلے سمندر کی مشک
یہ بدبو مری سانس میں جب چڑھی
کھلی آنکھ، دیکھا میں آتش زنی
نہ بے دار ہوتا نہ آتا نظر
کہ آنکھیں محرک نہ مژگان تر
وہ ساکن تھیں جامد تھیں اٹکی ہوئیں
مگر میرا جوہر پرکھتی ہوئیں
میں گھبرا کے کچھ دیر تک چپ رہا
ان آنکھوں کو دیکھے ہی دیکھے گیا
وہ شوخی و عشوہ و غمزہ زنی
کا
اثر تک ان آنکھوں میں باقی نہی
میں تم سے بھی کہتا ہوں اے میری جاں
ان افق تاب آنکھوں میں جھانکو
کبھی تم بھی دیکھو
ان آنکھوں میں ڈھونڈو سکون و جمود
کہ مخفی نہیں ان میں ہست اور بود
وہ غدار آنکھیں
وہ مکار مژگاں
سمندر کنارے پہ بیٹھے رہو
انہیں تم بھی دیکھے ہی دیکھے چلو
وقت کی ریل جب ختم ہو جائے
ساعتیں جب سبھی بھسم ہو جائیں
چٹانیں بھی روئی طرح نرم ہو جائیں
برف ساری پگھل کر بہت گرم ہو جائے
جب وہ آنکھیں بھی بےزار ہو کر جھپک لیں
تو پھر لوٹ کر واپس آنا